چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا کی بنچ نے مرکزی حکومت سے یہ یقینی بنانے کو کہا کہ پھوگاٹ کو آنے والے ایشیائی گیمز کے سلیکشن ٹرائل میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔



<div class="پیراگراف">
<p>ونیش پھوگاٹ، تصویر سوشل میڈیا</p>
</div>
<p>” class=”qt-image”/><img decoding=
صارف

google_preferred_badge

دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کو سخت پھٹکار لگائی۔ عدالت نے ناراضگی کا اظہار ڈبلیو ایف آئی کے ذریعہ مشہور خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ کو گھریلو ٹورنامنٹ میں حصہ لینے سے دور رکھنے پر کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملہ میں مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ پھوگاٹ کا تجزیہ کرنے کے لیے ماہرین کا ایک پینل بنائے۔

چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا کی بنچ نے ونیش پھوگاٹ معاملہ پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت سے یہ یقینی بنانے کو کہا کہ پھوگاٹ کو آنے والے ایشیائی گیمز کے سلیکشن ٹرائل میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔ بنچ نے کہا کہ ڈبلیو ایف آئی کا سرکردہ کھلاڑیوں کو حصہ لینے کی اجازت دینے کی روایت پر نہیں چلنا ’بہت کچھ کہتا ہے‘۔

بنچ نے سماعت کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ملک میں مادریت کا جشن منایا جاتا ہے اور فیڈریشن کو ’بدلہ‘ کے جذبہ سے کام نہیں کرنا چاہیے۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے پھوگاٹ کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک خصوصی پینل تشکیل کرنے کو کہا اور امید ظاہر کی کہ چیزیں بہتر انداز میں انجام دی جائیں گی۔ ہائی کورٹ نے زبانی طور پر کہا کہ ’’ماہرین سے اس کے امکانات کا جائزہ لینے کو کہیں۔ یہ یقینی بنائیں کہ وہ حصہ لے سکے۔‘‘




Source link

Categories: World News

0 Comments

Leave a Reply

Avatar placeholder

Your email address will not be published. Required fields are marked *