آل انڈیا آدیواسی کانگریس کے صدر وکرانت بھوریا نے کہا کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ سے یہاں مقیم شومپین قبیلہ کے وجود پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے جن کی تعداد پوری دنیا میں محض 200 ہے۔



<div class="پیراگراف">
<p>Graphex ‘X’ @INCIndia</p>
</div>
<p>” class=”qt-image”/><img decoding=
صارف

google_preferred_badge

کانگریس ’دی گریٹ نکوبار پروجیکٹ‘ کے خلاف لگاتار آواز اٹھا رہی ہے۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ اس پروجیکٹ سے انڈمان و نکوبار الجزائر کی قدرتی وراثت کو شدید نقصان پہنچے گا اور اس پروجیکٹ سے یہاں مقیم قبیلوں کے وجودہ کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اس تعلق سے آل انڈیا آدیواسی کانگریس کے صدر وکرانت بھوریا کا ایک ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’گریٹ نکوبار پروجیکٹ میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ صرف نریندر مودی کے دوست اڈانی کے لیے ہے۔‘‘

یہ ویڈیو پیغام کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر کیا ہے۔ ویڈیو میں وکرانت بھوریا کہتے ہیں کہ ’’گزشتہ 5 سالوں سے آئی این ایس باز کو وسعت دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، لیکن مودی حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی۔ لیکن اڈانی کو بندرگاہ، ٹاؤن شپ، کسینو، مالس لانے کی منظوری مل گئی۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’گریٹ نکوبار کی آبادی محض 8000 ہزار۔ لیکن اس پروجیکٹ کے تحت 5 لاکھ سے بھی زیادہ لوگوں کو وہاں بسایا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس سے قومی سیکورٹی کو کیا فائدہ ہوگا؟‘‘

اس پروجیکٹ کے مضر اثرات پر بات کرتے ہوئے وکرانت نے کہا کہ ’’نکوبار جزیرہ میں شومپین قبیلہ ہے، جس کے پورے دنیا میں صرف 200 لوگ بچے ہیں۔ اب ان کے وجود پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے۔ نکوبار ’لیول-6‘ زلزلہ زون میں آتا ہے، یعنی نہایت حساس خطہ، تو کیا 5 لاکھ لوگوں کو بسانا محفوظ ہوگا؟‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’انڈمان و نکوبار میں تقریباً 1.5 کروڑ درخت کاٹے جا رہے ہیں، جو ہمیں ہر طرح سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اگر انھیں تباہ کر دیا جائے گا تو اس کا ماحولیات پر جو اثر ہوگا، اس کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے۔ یہ مکمل تاناشاہی ہے اور ہمیں اس ناانصافی کے خلاف مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر آج رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کا ویڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے، جس میں وہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ سے متعلق کچھ اہم باتیں سامنے رکھ رہے ہیں۔ وہ ویڈیو میں کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ’’منصوبہ یہ ہے کہ آپ ہزاروں درخت کاٹیں، انہیں غیر قانونی طریقے سے باہر بھیجیں اور اس سے اربوں ڈالر کمائیں۔ پھر اس رقم سے اپنے ہوٹل، اپنے کیسینو اور اپنے چھوٹے سے رئیل اسٹیٹ کاروبار کو فروغ دیں۔ درحقیقت یہی سب ہو رہا ہے۔‘‘

راہل گاندھی اس ویڈیو میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کر رہے ہیں کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ کے تحت ایک بہت بڑے علاقہ کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’براہ کرم اس بات کو سمجھیں کہ 161 مربع کلومیٹر کا یہ علاقہ نئی دہلی سے چار گنا بڑا ہے۔ یہ بھی غور کرنے والی بات ہے کہ اس ملک کے سب سے زیادہ محفوظ اور بے مثال ماحولیاتی خطے میں یہ پروجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے آگے کہا کہ ’’ان لوگوں سے زمین چھینی جا رہی ہے جنہیں وہاں آباد کیا گیا تھا، اور قبائلی برادریوں کی زمینیں بھی ان سے چھینی جا رہی ہیں۔‘‘

ہماری پیروی کریں: واٹس ایپ, فیس بک, ٹویٹر, گوگل نیوز

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔






Source link

Categories: World News

0 Comments

Leave a Reply

Avatar placeholder

Your email address will not be published. Required fields are marked *