
خیبر: ذخہ خیل میں مشتعل قبائلیوں نے ہفتے کے روز طورخم جانے والی مرکزی شاہراہ کو بند کر دیا اور جمعہ کی رات ٹارگٹڈ حملے میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد اپنے دفاع میں ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان کیا۔
مقامی قبائلی بزرگ ملک عبداللہ خان کی قیادت میں، مظاہرین نے – جس میں بہت سے سیاسی جماعتوں کے کارکنان، سول سوسائٹی کے اراکین اور قبائلی شامل تھے – نے اعلان کیا کہ مسلح رضاکاروں کو مقامی علاقوں میں گشت کی ذمہ داری سونپ دی جائے گی۔
انہوں نے موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر مکمل پابندی کا اعلان بھی کیا اور ذخہ خیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے تمام سرکاری ملازمین کو اس وقت تک اپنی سرکاری ڈیوٹی انجام دینے سے منع کیا جب تک امن کی بحالی کا کوئی ٹھوس حل تلاش نہیں کیا جاتا۔
اس کے علاوہ انہوں نے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے بائیکاٹ اور ذخہ خیل کے علاقے میں تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کو بند کرنے کی اپیل کی۔
مظاہرین نے کسی بھی سرکاری اہلکار سے اس وقت تک ملنے سے انکار کردیا جب تک مزرینہ اور آس پاس کے علاقوں میں چھپے ہوئے مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف بامعنی کریک ڈاؤن شروع نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے مقامی پولیس افسران کو بھی مشورہ دیا کہ وہ نشانہ بننے سے بچنے کے لیے وردی نہ پہنیں۔
کالعدم عسکریت پسند گروپوں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے جاسوسی کرنے والے پر 10 لاکھ روپے جرمانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک ٹارگٹ کلنگ میں ملوث افراد کو گرفتار نہیں کیا جاتا اور علاقے کو تمام ناپسندیدہ عناصر سے پاک نہیں کیا جاتا تب تک روڈ بلاک جاری رہے گا۔
سڑک کی بندش سے افغان خاندانوں کی وطن واپسی بھی معطل ہوگئی، جس سے افغان شہریوں کو لے جانے والی کئی گاڑیاں پھنس گئیں۔
علاوہ ازیں ذخہ خیل کے عمائدین نے نجی رہائش گاہوں پر کئے گئے سلسلہ وار حملوں کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد، جن میں زیادہ تر مقامی رہائشی ہیں، رات کے وقت مرکزی سڑک پر باقاعدگی سے گشت کرتے ہیں۔
جمعہ کی شب لنڈی کوتل کے علاقے سلطان خیل میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد شاہراہ پر احتجاج کیا گیا۔
پولیس کے مطابق دونوں رشتہ داروں کو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کے گھر کے سامنے گولی مار دی۔
پولیس کے مطابق دونوں افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جب کہ حملہ آور قریبی پہاڑی پر فرار ہوگئے، جہاں سرچ آپریشن کیا گیا۔
رمضان کے بعد یہ تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل اسی علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے دو پولیس اہلکاروں اور ایک پولیس اہلکار کے ایک نوجوان رشتہ دار کو نشانہ بنایا۔
0 Comments