نورانی مسجد پر چلا بلڈوزر، 4 دیگر مذہبی مقامات بھی زد میں، 22 جے سی بی مشینیں انہدامی کارروائی میں مصروف

qaumiawaz2F2026-06-082Fvasibq7x2FBulldozer-Action.jpg


افسران کے مطابق سڑک کو چوڑا کرنے کے لیے ایک مسجد، ایک مزار، ایک مندر سمیت مجموعی طور پر 5 مذہبی مقامات اور دیگر تجاوزات کو ہٹایا جائے گا۔



<div class="پیراگراف">
<p>نورانی مسجد پر بلڈوزر ایکشن، تصویر سوشل میڈیا</p>
</div>
<p>” class=”qt-image”/><img decoding=
صارف

google_preferred_badge

راجستھانی کی راجدھانی جئے پور میں 4 منزلہ نورانی مسجد کو آج سرکاری بلڈوزروں کے ذریعہ زمین دوز کرنے کا عمل شروع ہو گیا۔ بلڈوزر ایکشن صبح تقریباً 7 بجے شروع ہوا۔ اس دوران پورا علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ مسجد کے ساتھ ہی 4 دیگر مذہبی مقامات پر بھی بلڈوزر چلایا جانا ہے۔ حالات کو بے قابو ہونے سے بچانے کے لیے جئے پور میں نصف شب سے ہی انٹرنیٹ خدمات کو 24 گھنٹوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مذہبی مقامات پر انہدامی کارروائی شروع کرنے سے قبل جئے پور سمیت کئی اضلاع سے فوج منگوائی گئی ہے۔ معاملہ کرشنا مارگ کو چوڑا کرنے سے جڑا ہوا ہے، جہاں 5 مذہبی مقامات سڑک پر ہی موجود ہیں۔ اس انہدامی کارروائی کے لیے اتوار کو ہی سخت سیکورٹی انتظامات شروع کر دیے گئے تھے۔ انتظامیہ نے پورے علاقہ کو سیل کر دیا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے کثیر تعداد میں فورس کی تعیناتی کی گئی۔

آج صبح جب نورانی مسجد پر بلڈوزر چلایا گیا تو وہاں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کی انٹری پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ میڈیا اہلکاروں کو نورانی مسجد سے ایک کلومیٹر دور ہی روک دیا گیا۔ جن مقامات پر انہدامی کارروائی ہو رہی ہے، وہاں موجود مکانوں کی چھتوں پر بھی پولیس جوان تعینات کیے گئے ہیں تاکہ پورے علاقہ کی نگرانی کی جا سکے۔ انہدامی کارروائی تقریباً 22 جے سی بی مشینوں کے ذریعہ کیا جا رہا ہے۔ موقع پر موجود افسران کا کہنا ہے کہ جب تک پورے علاقہ سے تجاوزات کو ہٹا نہیں دیا جاتا، تب تک انہدامی کارروائی جاری رہے گی۔

قابل ذکر ہے کہ جئے پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اس سے قبل 22 مئی کو اسی سڑک پر مہم چلا کر 134 تجاوزات ہٹائے تھے۔ اس کے عبد سڑک کی سرحد میں آ رہے مذہبی مقامات کے انتظامیہ اور متعلقہ فریقین کو خود تعمیرات ہٹانے کے لیے وقت دیا تھا۔ مقررہ وقت پورا ہونے کے بعد اب انتظامیہ نے خود کارروائی شروع کی۔ افسران کے مطابق کئی مقامات پر کرشنا مارگ کی چوڑائی محض 25 سے 30 فیٹ رہ گئی ہے، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں اس کی چوڑائی 80 فیٹ درج ہے۔ تقریباً 1.5 کلومیٹر طویل یہ راستہ نند پوری انڈرپاس کو جگت پورہ سے جوڑتا ہے اور آس پاس کی درجنوں کالونیوں کے لیے رابطہ کا اہم راستہ ہے۔

بہرحال، آج جب انہدامی کارروائی شروع ہوئی تو پورے شہر میں بی این ایس کی دفعہ 163 نافذ کر دی گئی۔ نورانی مسجد میں تو گزشتہ شب عشا کی نماز کے بعد ہی تالا بند کر دیا گیا تھا۔ آج صبح کارروائی کے دوران مسجد سے منسلک کوئی بھی شخص وہاں موجود نہیں تھا۔ مسجد کمیٹی کے ساتھ ہی کانگریس کے 2 اراکین اسمبلی نے بلڈوزر ایکشن پر سوال اٹھائے ہیں اور اسے غلط قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کارروائی منمانے طریقے سے کی جا رہی ہے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

scroll to top