کانگریس صدر کھڑگے نے پریس کانفرنس میں کہا کہ لاکھوں طلبا کو متاثر کرنے والے کئی سنگین ایشوز کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ وزیر تعلیم کو فوراً استعفیٰ دینا چاہیے۔
راجدھانی دہلی میں انڈیا بلاک کی میٹنگ کے بعد سبھی سرکردہ لیڈران نے ایک پریس بریفنگ میں حصہ لیا، جس میں میڈیا اہلکاروں کے سامنے کچھ اہم باتیں رکھی گئیں۔ خصوصاً کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بتایا کہ میٹنگ میں سبھی پارٹیوں نے 5 خاص نکات پر اتفاق کا اظہار کیا ہے، جس پر یکجہتی کے ساتھ کام کیا جائے گا۔ ملکارجن کھڑگے نے جن 5 نکات کا ذکر کیا، وہ اس طرح ہیں:
-
یہ اتفاق قائم ہوا کہ ایس آئی آر اور ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری اور انتخابات کی غیر جانبداری کے سلسلے میں ہندوستان کے چیف جسٹس کو ایک خط بھیجا جائے گا۔ یہ خط انھیں جلد ہی حوالے کیا جائے گا۔
-
لاکھوں طلبا کو متاثر کرنے والے کئی سنگین ایشوز کی حالت کو دیکھتے ہوئے یہ اتفاق رائے سے فیصلہ لیا گیا کہ وزیر تعلیم کو فوراً استعفیٰ دینا چاہیے۔ ایسا اس لیے کیونکہ ان کی مدت کار میں نیٹ اور سی بی ایس ای امتحانات میں لاکھوں نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج لاکھوں نوجوان سڑکوں پر کھڑے ہیں۔
-
موجودہ وقت میں بڑھتے سنگین معاشی حالات، بڑھتی بے روزگاری، مہنگائی، مظالم اور کسانوں کے ایشوز کو ہم اٹھاتے رہیں گے۔ مرکزی حکومت کو عوامی سروکار سے جڑے ایشوز پر ایک کل جماعتی میٹنگ طلب کرنی چاہیے، جس میں ہم ان سارے ایشوز کو ان کے سامنے رکھیں گے۔
-
انڈیا بلاک کی سبھی پارٹیاں ہر 2 مہینے میں میٹنگ کریں گے۔ ہماری اگلی میٹنگ اگست میں حیدر آباد میں ہوگی۔
-
مانسون اجلاس کے دوران پارلیمانی کوآرڈنیشن جاری رہے گا اور ہر صبح حزب اختلاف کے قائد کے دفتر میں کوآرڈنیشن میٹنگ منعقد کی جائے گی۔

