کھڑگے نے مودی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایل پی جی کی قیمتیں بار بار بڑھائی گئیں۔ 5.56 کروڑ استفادہ کنندگان ریفل خریدنے کے اہل نہیں ہیں۔ سلنڈر چھوڑ مائیں و بہنیں چولہا جلانے کو مجبور ہیں۔‘‘
’پردھان منتری اُجولا یوجنا‘ (پی ایم یو وائی) کے تحت سالانہ ملنے والے 9 ایل پی جی سلنڈرز کی تعداد مرکز کی مودی حکومت نے گھٹا کر سالانہ 4 سلنڈرز کر دی ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مودی حکومت اقتدار کے نشے میں چور ہے۔‘‘
راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ پوسٹ میں مودی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت کے 12 سالوں میں غریبی گھٹانے کی مہم کی حقیقت سمجھیے۔ پہلے غریب سے منریگا کے تحت کام کا حق چھینا، اب (حکومت) روٹی کا نوالہ بھی چھین رہی ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ’’2016 میں مودی جی نے دعویٰ کیا تھا کہ اُجولا یوجنا کے تحت خواتین کو لکڑی کے چولہے کے دھوئیں سے آزادی ملے گی۔ سال میں 12 سبسیڈی والے سلنڈر کا وعدہ تھا۔ وہ پچھلے سال 12 سے گھٹا کر 9 کر دیا۔ اب (2026) سبسیڈی والے سلنڈر کی تعداد 9 سے گھٹا کر صرف 4 کر دی گئی۔ یعنی 12 کا وعدہ، لیکن 4 کا ارادہ۔‘‘
ایل پی جی سلندر کی قیمتوں میں لگاتار ہو رہے اضافے پر بھی کانگریس صدر کھڑگے نے فکر کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’ ’’ایل پی جی کی قیمتیں بار بار بڑھائی گئیں۔ 5.56 کروڑ استفادہ کنندگان ریفل خریدنے کے اہل نہیں ہیں۔ سلنڈر چھوڑ مائیں و بہنیں چولہا جلانے کو مجبور ہیں۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’ان (غریبوں) کے آنسوؤں پر گھڑیالی آنسو بہانے والی مودی حکومت اقتدار کے نشے میں چور ہے۔‘‘

