
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پیر کو بند دروازوں کے پیچھے کیے گئے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ایسے فیصلوں کی مخالفت کرے گی جو صوبے کے امن اور عوام کے مفادات کے خلاف ہوں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے 15 پولیس اہلکاروں کے بعد بنوں کے دورے کے دوران کیا۔ شہید اور فتح خیل پولیس چوکی پر خودکش حملے کے بعد تین افراد زخمی ہوئے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق آفریدی نے شہید پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور فاتحہ خوانی بھی کی۔
بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے زخمی اہلکاروں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے اسپتال کا بھی دورہ کیا اور اہلکاروں کو انہیں صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
بیان میں آفریدی کے حوالے سے کہا گیا کہ کے پی پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے، بصورت دیگر ’مسلط حالات‘ غالب رہیں گے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ہم کہتے رہتے ہیں کہ دہشت گرد دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں، لیکن گزشتہ 78 سالوں سے بند دروازوں کے پیچھے فیصلے ہم پر مسلط کیے جا رہے ہیں،” انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلط کردہ پالیسیوں نے “صوبے کو انتشار کی دلدل میں دھکیل دیا ہے”۔
“ہم نے بہت قربانیاں دیں۔ [in the fight] دہشت گردی کے خلاف مزید افراتفری ناقابل قبول ہے، “انہوں نے کہا۔
آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت اور پولیس مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑیں گے، انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے کے امن اور عوام کے مفاد کے خلاف ہر فیصلے کی مخالفت کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی کیونکہ صوبے میں امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
0 Comments